• Haqeeqat e husn (Allama Iqbal) - Ahsan Tirmizi
    Jun 27 2026

    If you enjoyed this episode, please share it with your friends and family. And if you haven't already, be sure to follow the podcast on your favorite podcast app so you never miss a new episode.

    You can also send your suggestions, feedback, or episode requests to theurdupoetrypodcast@gmail.com.

    I'll be looking forward to hearing from you. :)

    Show More Show Less
    1 min
  • Banjarah (Javed Akhtar) - Ahsan Tirmizi
    May 5 2026

    Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com

    Show More Show Less
    4 mins
  • Farsh e naummidi e deedar (Faiz Ahmad Faiz) - Ahsan Tirmizi
    Feb 11 2026

    Send your suggestions/requests at theurdupoetrypodcast@gmail.com

    Show More Show Less
    2 mins
  • Dorahe (Kafeel Aazar Amrohvi) - Ahsan Tirmizi
    Jun 15 2025

    کب تلک خوابوں سے دھوکہ کھاؤ گی

    کب تلک اسکول کے بچوں سے دل بہلاؤ گی


    کب تلک منا سے شادی کے کرو گی تذکرے

    خواہشوں کی آگ میں جلتی رہو گی کب تلک


    چھٹیوں میں کب تلک ہر سال دلی جاؤ گی

    کب تلک شادی کے ہر پیغام کو ٹھکراؤ گی


    چائے میں پڑتا رہے گا اور کتنے دن نمک

    بند کمرے میں پڑھو گی اور کتنے دن خطوط


    یہ اداسی کب تلک

    کب تلک نظمیں لکھو گی


    رؤو گی یوں رات کی خاموشیوں میں کب تلک

    بائبل میں کب تلک ڈھونڈو گی زخموں کا علاج


    مسکراہٹ میں چھپاؤ گی کہاں تک اپنے غم

    کب تلک پوچھو گی ٹیلیفون پر میرا مزاج


    فیصلہ کر لو کہ کس رستے پہ چلنا ہے تمہیں

    میری بانہوں میں سمٹنا ہے ہمیشہ کے لیے


    یا ہمیشہ درد کے شعلوں میں جلنا ہے تمہیں

    کب تلک خوابوں سے دھوکے کھاؤ گی


    Show More Show Less
    2 mins
  • Chand ke tamannai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
    Oct 29 2024

    شہر دل کی گلیوں میں

    شام سے بھٹکتے ہیں

    چاند کے تمنائی

    بے قرار سودائی

    دل گداز تاریکی

    جاں گداز تنہائی

    روح و جاں کو ڈستی ہے

    روح و جاں میں بستی ہے

    شہر دل کی گلیوں میں

    تاک شب کی بیلوں پر

    شبنمیں سرشکوں کی

    بے قرار لوگوں نے

    بے شمار لوگوں نے

    یادگار چھوڑی ہے

    اتنی بات تھوڑی ہے

    صد ہزار باتیں تھیں

    حیلۂ شکیبائی

    صورتوں کی زیبائی

    قامتوں کی رعنائی

    ان سیاہ راتوں میں

    ایک بھی نہ یاد آئی

    جا بجا بھٹکتے ہیں

    کس کی راہ تکتے ہیں

    چاند کے تمنائی

    یہ نگر کبھی پہلے

    اس قدر نہ ویراں تھا

    کہنے والے کہتے ہیں

    قریۂ نگاراں تھا

    خیر اپنے جینے کا

    یہ بھی ایک ساماں تھا

    آج دل میں ویرانی

    ابر بن کے گھر آئی

    آج دل کو کیا کہئے

    با وفا نہ ہرجائی

    پھر بھی لوگ دیوانے

    آ گئے ہیں سمجھانے

    اپنی وحشت دل کے

    بن لئے ہیں افسانے

    خوش خیال دنیا نے

    گرمیاں تو جاتی ہیں

    وہ رتیں بھی آتی ہیں

    جب ملول راتوں میں

    دوستوں کی باتوں میں

    جی نہ چین پائے گا

    اور اوب جائے گا

    آہٹوں سے گونجے گی

    شہر دل کی پنہائی

    اور چاند راتوں میں

    چاندنی کے شیدائی

    ہر بہانے نکلیں گے

    آرزو کی گیرائی

    ڈھونڈنے کو رسوائی

    سرد سرد راتوں کو

    زرد چاند بخشے گا

    بے حساب تنہائی

    بے حجاب تنہائی

    شہر دل کی گلیوں میں


    Show More Show Less
    2 mins
  • Aakhri mulaqaat (Jan Nisar Akhtar) - Ahsan Tirmizi
    Oct 12 2024


    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    دو پاؤں بنے ہریالی پر

    ایک تتلی بیٹھی ڈالی پر

    کچھ جگمگ جگنو جنگل سے

    کچھ جھومتے ہاتھی بادل سے

    یہ ایک کہانی نیند بھری

    اک تخت پہ بیٹھی ایک پری

    کچھ گن گن کرتے پروانے

    دو ننھے ننھے دستانے

    کچھ اڑتے رنگیں غبارے

    ببو کے دوپٹے کے تارے

    یہ چہرہ بنو بوڑھی کا

    یہ ٹکڑا ماں کی چوڑی کا

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    السائی ہوئی رت ساون کی

    کچھ سوندھی خوشبو آنگن کی

    کچھ ٹوٹی رسی جھولے کی

    اک چوٹ کسکتی کولھے کی

    سلگی سی انگیٹھی جاڑوں میں

    اک چہرہ کتنی آڑوں میں

    کچھ چاندنی راتیں گرمی کی

    اک لب پر باتیں نرمی کی

    کچھ روپ حسیں کاشانوں کا

    کچھ رنگ ہرے میدانوں کا

    کچھ ہار مہکتی کلیوں کے

    کچھ نام وطن کی گلیوں کے

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ چاند چمکتے گالوں کے

    کچھ بھونرے کالے بالوں کے

    کچھ نازک شکنیں آنچل کی

    کچھ نرم لکیریں کاجل کی

    اک کھوئی کڑی افسانوں کی

    دو آنکھیں روشن دانوں کی

    اک سرخ دلائی گوٹ لگی

    کیا جانے کب کی چوٹ لگی

    اک چھلا پھیکی رنگت کا

    اک لاکٹ دل کی صورت کا

    رومال کئی ریشم سے کڑھے

    وہ خط جو کبھی میں نے نہ پڑھے

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ اجڑی مانگیں شاموں کی

    آواز شکستہ جاموں کی

    کچھ ٹکڑے خالی بوتل کے

    کچھ گھنگرو ٹوٹی پائل کے

    کچھ بکھرے تنکے چلمن کے

    کچھ پرزے اپنے دامن کے

    یہ تارے کچھ تھرائے ہوئے

    یہ گیت کبھی کے گائے ہوئے

    کچھ شعر پرانی غزلوں کے

    عنوان ادھوری نظموں کے

    ٹوٹی ہوئی اک اشکوں کی لڑی

    اک خشک قلم اک بند گھڑی

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں

    کچھ رشتے ٹوٹے ٹوٹے سے

    کچھ ساتھی چھوٹے چھوٹے سے

    کچھ بگڑی بگڑی تصویریں

    کچھ دھندلی دھندلی تحریریں

    کچھ آنسو چھلکے چھلکے سے

    کچھ موتی ڈھلکے ڈھلکے سے

    کچھ نقش یہ حیراں حیراں سے

    کچھ عکس یہ لرزاں لرزاں سے

    کچھ اجڑی اجڑی دنیا میں

    کچھ بھٹکی بھٹکی آشائیں

    کچھ بکھرے بکھرے سپنے ہیں

    یہ غیر نہیں سب اپنے ہیں

    مت روکو انہیں پاس آنے دو

    یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں

    میں خود نہ جنہیں پہچان سکوں

    کچھ اتنے دھندلے سائے ہیں


    Show More Show Less
    4 mins
  • Nazrana (Kaifi Azmi) - Ahsan Tirmizi
    Jul 6 2024

    Feel free to share your opinions with me at theurdupoetrypodcast@gmail.com

    nazm:

    تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو

    اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

    اسی کوچے میں جہاں چاند اگا کرتے ہیں

    شب تاریک گزاروں گا، چلا جاؤں گا

    راستہ بھول گیا، یا یہی منزل ہے مری

    کوئی لایا ہے کہ خود آیا ہوں معلوم نہیں

    کہتے ہیں حسن کی نظریں بھی حسیں ہوتی ہیں

    میں بھی کچھ لایا ہوں، کیا لایا ہوں معلوم نہیں

    یوں تو جو کچھ تھا مرے پاس میں سب بیچ آیا

    کہیں انعام ملا، اور کہیں قیمت بھی نہیں

    کچھ تمہارے لیے آنکھوں میں چھپا رکھا ہے

    دیکھ لو اور نہ دیکھو تو شکایت بھی نہیں

    ایک تو اتنی حسیں دوسرے یہ آرائش

    جو نظر پڑتی ہے چہرے پہ ٹھہر جاتی ہے

    مسکرا دیتی ہو رسماً بھی اگر محفل میں

    اک دھنک ٹوٹ کے سینوں میں بکھر جاتی ہے

    گرم بوسوں سے تراشا ہوا نازک پیکر

    جس کی اک آنچ سے ہر روح پگھل جاتی ہے

    میں نے سوچا ہے کہ سب سوچتے ہوں گے شاید

    پیاس اس طرح بھی کیا سانچے میں ڈھل جاتی ہے

    کیا کمی ہے جو کرو گی مرا نذرانہ قبول

    چاہنے والے بہت، چاہ کے افسانے بہت

    ایک ہی رات سہی گرمیٔ ہنگامۂ عشق

    ایک ہی رات میں جل مرتے ہیں پروانے بہت

    پھر بھی اک رات میں سو طرح کے موڑ آتے ہیں

    کاش تم کو کبھی تنہائی کا احساس نہ ہو

    کاش ایسا نہ ہو گھیرے رہے دنیا تم کو

    اور اس طرح کہ جس طرح کوئی پاس نہ ہو

    آج کی رات جو میری ہی طرح تنہا ہے

    میں کسی طرح گزاروں گا چلا جاؤں گا

    تم پریشان نہ ہو، باب کرم وا نہ کرو

    اور کچھ دیر پکاروں گا چلا جاؤں گا

    Show More Show Less
    2 mins
  • Sab Maaya Hai (Ibn e Insha) - Ahsan Tirmizi
    Jun 29 2024

    Sab Maaya Hai by Ibn e Insha:

    سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

    اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے

    جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے

    سب مایا ہے

    ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی

    یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی

    بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے

    سب مایا ہے

    اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں

    جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں

    تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے

    سب مایا ہے

    معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی

    سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشاؔ بھی

    فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے

    سب مایا ہے

    کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو

    جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو

    اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے؟

    سبب مایا ہے

    جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں

    تم جانتے ہو ہم کیوں کر اس کا نام لکھیں

    دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے

    سب مایا ہے

    وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی

    وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی

    آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے

    سب مایا ہے

    جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں

    وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں

    ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے

    سب مایا ہے

    جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے

    اس شہر سے دور اک کٹیا ہم نے بنائی ہے

    اور اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے

    سب مایا ہے

    Show More Show Less
    3 mins